Kawa khany ka ilzam May 17, 2009
Sawal:
میرا سوال تم مولویوں سے ہے کہ تمارا ایک مولوی رشید گنگوہی کہتاہے کہ کوا کھا سکتے ہیں اور فتوی میں صرف یہی لفظ لکھے ہیں۔ جب کہ تمہارا ہی ایک نام نہاد مولوی کہتا ہے کہ کوا کی تین قسمیں ہیں ۔ یہ تو بتاؤ کہ کل کوئی اور چیز جو حرام ہے وہ تم اپنے مولوی کو بچانے کے لیے حلال کرلو گے۔ کچھ تو حیا کرو پر کوا نہ کھاؤ۔ اوراپنے اکابرین کی غلطیاں قبول کرو۔ اسلام کو اکیلے دیوبندی ہی نہیں لے کر چل رہے۔ مسلمان بنو۔ رشیدی نہ بنو۔ کب تک اپنے غلط مولویوں کے کارناموں پر پردہ ڈالو گے۔ آخر کب تمہیں شرم آئے گی۔ امت کو تفرقہ میں ڈالا۔ گستاخوں کا ساتھ دیا۔ اوقاف کی مسجدوں میں نوکریاں تمہاری۔ مزارات کا پیسہ کھا کھا کر جوان ہوئے ہو اور آج ان ہی کے خلاف زبان درازی کرتے ہو۔ شرم کر۔ کیا کہیں شرم تم کومگر نہیں آتی۔ اگر ہمت ہے تو اپنا مقام پیدا کر ورنہ چھوڑدو اس پاک منصب کو یہ سب غصہ نہیں حقیقت ہے۔ مسلمان وہ ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرے اور خالصتاً اپنے خدا سے معافی مانگے۔اب بھی وقت ہے معافی مانگو اپنے گندے کارناموں کی۔ اور فتوی کے نیچے اپنا نام ضرور لکھا کروتاکہ پتہ چلے کہ کون فتنہ پھیلا رہا ہے۔ صرف دیوبند نہ لکھا کرو ۔ شیر بن کر میدان میں آؤ۔ اب تو تم نے اہل السنہ بھی اپنے ساتھ لکھنا شروع کردیا ۔ کتنا بڑا دھوکا۔ یہی سکھایا تھا تمہیں تمہارے ماں باپ نے کہ جھوٹ بولو اور ہمارا کوا سفید ہے۔ جواب تفصیل سے دینا اگر نہ دے سکو تو اس منصب کو چھوڑ دو۔ صرف یہ نہ کرنا کہ ہماری کتاب فلانی فلانی میں دیکھ لو۔ ایسے کام نہیں چلے گا۔تفصیلی تحریری ثبوت دو۔ اس کا فوراً جواب دو۔
Jawab:
نام نہاد مولوی سے تمہاری مراد معلوم نہیں کون ہے؟ لیکن انھوں نے جو بات کہی کہ کوا کJی تین قسمیں ہیں، وہ صحیح ہے، حوالے کے لیے دیکھئے: زیلعی شرح کنز، مجمع الأنھر، ذخیرة العُقبی، فتاوی جامع الرموز، فتاویٰ قاضی خان وغیرہا اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة اللہ علیہ نے کوے کے بارے میں وہی لکھا ہے جو ان سے پیشتر بہت سے حنفی فقہاء حضرات لکھتے آئے ہیں، چنانچہ فتاویٰ عالم گیری میں ہے: والغراب الذي یأکل الحب والزرع ونحوھا حلال بالإجماع یعنی جو کوا، دانہ اناج او راس جیسی چیزیں کھاتا ہے وہ بالاتفاق حلال ہے، اس کے علاوہ بدائع الصنائع، کنز البیان، قدوری، درمختار مع الشامی، شرح وقایة، فتاوی سراجیہ، ہدایہ، اور احکام القرآن للجصاص وغیرہ کتب معتبرہ مستندہ میں بھی لکھا ہے۔ آپ نے اپنی مذکورہ تحریر میں جو کچھ لکھا ہے اگر وہ آپ کے بقول : حقیقت ہے غصہ نہیں ہے، اور آپ میدان میں واقعی شیر بن کر اترے ہیں تو براہ کرم ان حوالوں کا بھی جواب دیجیے گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
مولانا اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویة الایمان May 17, 2009
حضرت میرا سوال ہے کہ میں نے مولانا اسماعیل دہلوی کی کتاب تقویة الایمان میں تذکیر الاخوان کا مطالعہ کیا ہے۔ جس میں شرک کی تفصیل بتاتے ہوئے کسی آیت یا حدیث کی تشریح کرتے وقت آپ نے انبیاء علیہ السلام کو چماروں سے تشبیہ کی ہے۔ دوسری جگہ اس حدیث ?کہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم مہاجرین اورانصار کی محفل میں بیٹھے ہوئے تھے ایک اوٹنی نے آکر آپ کوسجدہ کیا ،صحابہ نے فرمایاکہ یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ کو پیڑ اورجانور سجدہ کرتے ہیں ہمیں بھی اجازت دیجئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سجدہ صرف اللہ عزوجل کوکرو اور اپنے بھائی کی تعظیم کرو? کی تشریح کرتے ہوئے مولانا کہتے ہیں ?یعنی سارے انسان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور انبیاء علیہ السلام کا درجہ بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ ہمارے بڑے بھائی ہیں اس لیے نبی کی تعظیم ایسے ہی کرنی چاہیے جیسے کہ اپنے بڑے بھائی کی۔ کیوں کہ وہ بھی ہماری طرح انسان ہی تھے?۔ میں پوچھتاہوں کیا اس طرح کا لفظ نبی کی شان میں کہنا محبوب خداکے بارے میں یہ لفظ کہنا کہاں تک درست ہے؟ ہاں اس حدیث میں ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نفی کرتے ہوئے اپنے آپ کو صحابہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کو بھائی کہتے ہیں لیکن کیا صحابہ نے کبھی بھی ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہا یا حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے بھی کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھائی کہا تو ہم گناہ گار بندے کیسے یہ الفاظ ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہیں؟ میں نے اس کتاب کا پورا مطالعہ نہیں کیا پھر بھی کچھ حد تک پڑھا ہوں اورپڑھ رہا ہوں اس میں کافی ساری قرآنی آیتوں اور احادیث سے ہی بیان کیا گیا ہے۔ لیکن جو دوباتیں ابھی میں نے جس کے بارے میں آپ سے سوال کیا ہے یہ بہت بری لگیں اور بے شک جس کے دل میں تھوڑا سا بھی عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو تو اسے یہ باتیں کبھی بھی گوارہ نہ ہوں گی۔ اللہ تعالی ہمارے اور آپ کے دل میں اپنی اور اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بسا دے۔ آمین
آپ کے استفتاء کے مضمون سے ظاہر ہے کہ اصل کتاب کو آپ نے دیکھا ہی نہیں، اہل باطل جو کچھ زبردستی مطلب کشید کرکے عامہٴ مسلمین کو دھوکہ دیتے ہیں بس اسی قماش کے لوگوں کے مضامین آپ کے سامنے ہیں اوراکر اصل کتاب کو دیکھا ہے تو بہت سرسری نظر سے دیکھا ہے، ایک کتاب ہے: عباراتِ اکابر، دوسری کتاب ہے: غلط فہمیوں کا ازالہ، یہ دونوں کتابیں مکتبہ نعمانیہ دارالعلوم دیوبند سے قیمتاً منگالیں، ان کو اطمینان سے پڑھیں، حضرت مولانا محمد اسماعیل شہید رحمہ اللہ اوراکابر اہل سنت والجماعت علمائے دیوبند رحمہم اللہ کی صاف شفاف عبارتوں میں اہل باطل نے جو دجل و تلبیس دھوکہ دہی کی ہے اس کو عام فہم انداز میں دونوں مذکورہ بالا کتابوں میں لکھ دیا گیا ہے، ان دونوں کتابوں کا مطالعہ کرکے اصل کتابوں کو ملاحظہ کریں، ان شاء اللہ آپ پر بھی حقیقت آفتاب نیم روز کی طرح واضح ہوجائے گی۔ اس کے بعد کچھ اشکال رہے تو لکھیں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند




















